کمٹہ 12/ فروری (ایس او نیوز) کمٹہ ٹاون میونسپل کاونسل میں چل رہی بد انتظامی کی ایسی مثال سامنے آئی ہے جس پر عوام کی طرف سے بدعنوانی کے شکوک ظاہر کیے جارہے ہیں ۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق یہاں پچھلے دنوں منعقد ہوئے رتھ اتسوا کے موقع پر سڑک کنارے دکانیں لگانے والوں سے ٹی ایم سی نے کرایہ وصول کیا تھا مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ کووڈ وبا کے دوران پروٹوکول پر عمل نہ کرنے اور ماسک وغیرہ نہ پہننے کے لئے جرمانہ وصولی کی جو رسید تھی وہی رسید دکانداروں کی دی گئی ہے ۔
ضلع انتظامیہ نے عوامی مقامات پر کووڈ پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنے والوں سے ماسک نہ پہننے پر جرمانہ وصول کرنے کے لئے جو رسید چھاپی تھی اس پر رقم مقدار 100 روپے چھپا ہوا ہے ۔ رتھ اتسوا کی عارضی دکان کا کرایہ اس سے کہیں زیادہ تھا ۔ ٹی ایم سی کے اہلکاروں نے اس پر تبدیلی کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے کرایہ کی رقم درج کرتے ہوئے دکانداروں کو رسید تھمائی ہے ۔
اس معاملہ کا ایک اور تعجب خیز پہلو یہ ہے کہ کووڈ پروٹوکول کی وجہ سے رتھ اتسوا کو سادگی سے منانے کا فیصلہ ہوا تھا ۔ اس پس منظر میں بازار لگانے اور عارضی دکانیں چلانے کے لئے کمٹہ ٹی ایم سی کی طرف سے اجازت نہ دینا طے تھا ۔ اس کے باوجود تہوار سے ایک دن قبل رات کے وقت اچانک دکانیں لگانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس معاملہ پر ٹی ایم سی کے عام اجلاس میں بہت ہی گرما گرم بحث دیکھنے کو ملی ۔ اس دوران نائب صدر راجیش پائی اپنا آپا کھو بیٹھے اور ہنگامہ کھڑا کیا ۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے ایم ایل اے دینکر شیٹی کے خلاف بھی بھڑاس نکالی ۔
عوام کا کہنا ہے کہ جرمانہ کی رسید کے لئے چونکہ اس پر طے شدہ رقم پہلے سے درج تھی اس لئے دفتری حساب و کتاب کے لئے اس کی کاربن نقل رکھنے کا سوال نہیں ہے ۔ اس رسید کا حساب سیریئل نمبر اور کاونٹر فوئل سے کیا جاتا ہے ۔ جب کہ کرایہ وصولی کا حساب و کتاب اور اس کا کھاتہ بالکل الگ ہوتا ہے اور اس رسید پر ترمیم کرنے کے بعد کاونٹر فوئل پر بھی ترمیم کی گئی ہے یا نہیں اس کا کسی کو پتہ نہیں ہے ۔ پھر کرایہ کے بطور وصولی گئی رقم کا درست حساب کیسے ملے گا ۔ کچھ لوگ اس شبہ کا بھی اظہار کرتے پائے گئے کہ کہیں یہ رسید بک ہی نقلی نہ ہو ۔ اس لئے اس معاملہ کی گہرائی سے جانچ ہونی چاہئے ۔